fina-sherosokhan-animat.gif

Maulan Unzar Sha kshmiri

مولانا انظر شاہ کشمیری اسلاف کے علوم کے امین تھے

دبلی ۲۶۔اپریل ۲۰۰۸ء ۔ رپورٹ عبد المتین منیری ایڈیٹر اخبار و افکار

دبی سے موصولہ اطلاع کے مطابق آج علی الصبح برصغیر کے مایہ ناز عالم دین اور اسلاف کے علوم کے امین حضرت مولانا انظر شاہ کشمیری صاحب شیخ الحدیث وقف دارالعلوم دیوبند کا دہلی کے ایک اسپتال میں انتقال ہوگیا، مولانا گذشتہ کچھ عرصہ سے علیل تھے ، پیشاب میں یوریا بہت زیادہ بڑھ گیا تھا جس کی وجہ سے گردوے اور جگر بہت زیادہ متاثر تھے۔

مولانائے مرحوم دور حاضر کے چنندہ اکابر علماء میں تھے ، وہ اسلاف و اکابر کے علوم کے امین تھے، اللہ نے آپ کو بلا کے حافظے سے نوازا تھا، آپ کے والد ماجد امام العصر مولانا محمد انورشاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کا شمار گذشتہ صدی کے اوائل کے عظیم علماء میں  ہوتا تھا، آپ کا خداداد حافظہ مثالی تھا ، مولانا انظرشاہ صاحب کے قوت حافظہ کو دیکھ کر آپ کے والد ماجد کے حافظہ کی داستانوں پر یقین کرنا مشکل نہ تھا، اس خانوادے سے کئی اور علمی شخصیات وابستہ تھیں ، آپ کے بھائی مولانا ازہرشاہ قیصر مرحوم طویل عرصہ تک ماہنامہ دارالعلوم دیوبند کے مدیر رہے، آپ کے بہنوئی مولانا محمد رضا بجنوری مرحوم نے مولانا انورشاہ رحمۃ اللہ کے دروس بخاری کو انوار الباری کے عنوان سے بیس قریب جلدوں میں مرتب  کیا، اور مجلس علمی ڈھابیل کی تاسیس میں شریک رہے۔

مولانا انظر شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے تقریبا اسی سال کی عمر پائی ، ۱۹۳۲ میں جب آپ کے والد ماجد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تو اس وقت آپ کی عمر چار سال کی تھی ، جنوبی افریقہ کے میاں خاندان نے آپ کی پرورش کی ذمہ داری نبھائی،آپ کو گذشتہ صدی

 کے اکثر اکابر علماء کی صحبت اور شفقت نصیب ہوئی ، خاص طور پر آپ نے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا عبید اللہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ اور مفتی اعظم حضرت مولانا کفایت اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ، شیخ الادب مولانا اعزاز علی رحمۃ اللہ علیہ ، حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کو قریب سے دیکھا، آپ نےسنہ پچاس کی دہائی کے وسط سے سنہ  اسی کے اوائل میں دارالعلوم دیوبند

 کےاختلافات تک جملہ تین دہائی پر محیط عرصہ یہاں پر تدریس میں گذارا،اور جب دارالعلوم کے اختلافات حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب رحمۃ اللہ علیہ کی اس ادارے سے علحدگی پر منتج ہوئے تو آپ نے وقف دارالعلوم دیوبند کے نام سے دوسرے بعض اکابرین کے ساتھ ایک نئے تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی، ان میں سے حضرت حکیم الاسلام کی رحلت پر ربع صدی گذرچکی ہے، چند ماہ قبل مولانا محمد نعیم صاحب نے بھی داعی اجل کو لبیک کہا ، اب ان میں حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب بقید حیات ہیں ، اللہ آپ کا سایہ تادیر باقی رکھے، غالبا آپ دور حاضر کے اکابرین دیوبند میں سب سے معمر ہیں۔

مولانا انظر شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے زندگی کا زیادہ تر حصہ قال اللہ و قال الرسول میں گذارا ، دور حاضر میں آپ کے درس بخاری کو مختلف جہات سے سب پر مقبولیت حاصل تھی، طلبہ آپ کے درس میں شرکت کے لئے مختلف ملکوں سے جوق در جوق آتے تھے،

اللہ نے آپ کو خطابت کی اور بات سمجھانے کی بے پناہ صلاحیت سے نوازا تھا،آپ کی زبان میں بے پناہ تاثیر تھی،

 تقریر سننے کے بعد ہر کوئی آپ کا مسحور ہوجاتا تھا، علم وتحقیق

 آپ کا اوڑھنا بچھونا تھا، اپنے والد ماجد کے علوم کو زندہ کرنے کے لئے آپ نے بے پناہ کوشش کی ، اس مقصد سے آپ نے معھد الامام الانور کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم کیا اور امام العصر کے نام سے مجلہ جاری کیا ، یہاں سے گذشتہ دنوں کئی ایک باوقار علمی کتابیں شائع ہوئیں،

آپ نے ملکوں ملکوں میں اپنے وعظ و ارشاد کی لو جلائی ، دبی آتے تو مسجد بن دلموک میں اپنی مجالس علمیہ سے مستفید کرتے، آپ کی کئی ریکارڈ شدہ مجالس اہل بھٹکل کے ویب سائٹ اردو آڈیو ڈاٹ کام پر پیش کی گئی ہیں۔

طویل بیماری کے بعد دو ماہ قبل یہاں تشریف لائے تھے تو آپ کی زبانی آب بیتی ریکارڈ کرنے کی خواہش کا اظہار ہم نے کیا تو  بہت خوش ہوئے ، لیکن انٹریو ریکارڈ کرتے وقت محسوس ہوا کہ لاعلاج بیماری نے صحت کے ساتھ اب حافظے کو بھی بری طرح متاثر کردیا ہے، باوجود اس کے صحیح بخاری پڑھانے کی خواہش ان پر حاوی تھی۔

گذشتہ صدی کے آغاز کے انقلابی دور نے برصغیر کو جن عبقری شخصیات سے نوازا تھا ، وہ ایک ایک کرکے اٹھ گئیں، اب صرف ان کی یادیں رہ گئی ہیں، انہیں قریب سے دیکھنے والے بھی اب ناپید ہوتے جارہے ہیں ۔یہ دور قحط الرجال کا دور ہے مدارس اور دارالعلوم کی تعداد اب پہلے سے دسیوں گنا بڑھ گئی ہے،لیکن نان قوت پر گذر بسر کرکے چھوٹے چھوٹے قریوں کو شہرت بخشنے والے اب ناپید ہوتے جارہے ہیں، ایسا لگتاہے کہ کیفیت کہیں کمیت میں کھو گئی ہے، اللہ اس قوم کی حفاظت کرے، اور جن شخصیات نے اس قوم کو سربلند کرنے کے لئے قربانیاں دیں اللہ ان کی قربانیوں کو قبولیت سے نوازے ، آمین

homepage.jpg