fina-sherosokhan-animat.gif

Jaddo Jahad Azadi Aor Urdu

hyderabad_conference_2007.jpg

مولانا آزاد اُردو یونیورسٹی حیدرآباد کے زیرِ اہتمام

بیں الاقوامی اُردو کانفرنس "جدو جہدِ آزادی اور اُردو"

مولانا آزاد اُردو یونیورسٹی، حیدرآباد کے زیرِ اہتمام  ایک سہ روزہ کانفرنس کا افتتاح ۱۱/ مارچ ۲۰۰۷ کو شام 4:30تارامتی بارہ دری انڈور آڈیٹوریم  میں عمل پذیر ہوا۔  جس کا عنوان ہے "جدوجہد آزادی اور اُردو"۔ اس کانفرنس کا افتتاح ممتاز مکالمہ  نگار، ادیب اور شاعر جناب جاوید اختر کے ہاتھ ایک ساوینیر کے اجرا کے ساتھ ہوا۔ پدم و بھوشن پروفیسر عبید صدیقی (چانسلر یونیورسٹی ہٰذا) نے صدارت کی اور صدر نشین مرکزی ساہتیہ اکیڈمی دہلی پروفیسر گوپی چند نارگ مہمان اعزازی تھے۔

کانفرنس میں شرکت کے لۓ امریکہ،  کینیڈا اور پاکستان کےعلاوہ کیٔ اور ممالک  کے ادیب، شعرااور اسکالرس تشریف لاۓ تھے۔ جن میں بشمول ٹورانٹو سے ڈاکٹر تقی عابدی، نیویارک سے جناب خلیل الرحمٰن مدیر اردو ٹا مٔز، وکیل انصاری، شمیم علیم، جناب ضیا الدین شکیب اور جناب جنیدی قادری نے برطانیہ نے شرکت کی۔

اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ در اصل جنگ ِ آزادی کی اصل مجاہد اُردو زبان ہے۔ آزادی کے اعلان کے بعد اُردو ملک میں ایک معتوب زبان ٹھری۔ اردو کو ختم کرنے کی کیٔ سازیشیں کی گیٔں۔ معیشت اور روزگار کے دروازے اس کے لۓ بند کر دیے گۓ، اس کے باوجود اُردو فروغ پاتی رہی۔ملک میں اردو پڑھنے والے کم ہیں لیکن اُردو بولنے والے اور دلچسپی رکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رھا۔ اُردو ابتدا سے ہی ایک سیکولر ، ترقی پسند اور ہما گیر مزاج کی زبان رہی ہے۔ہندوستان کی جنگ آزادی کی تاریخ صرف اور صرف اردو ادب اور شاعری سے لکھی جاسکتی ہے۔ اُردو زبان اگرچہ خواص کی پسندیدہ رہی ہو لیکن گفتو عوام سے رہی۔ عوام کے مسا ٔیٔل ، امیدیں، ارمان، خواب  اور عزایٔم اس کے ادب اور شاعری میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ اگر دلٰی کے اجڑنے کی دستان دیکھنا ہو تو میرؔ کی شاعری دیکھیۓ۔ جنگ آزادی کی کہانی پڑھنی ہو تو ظفر علی خان، جوش ملیح آبادی سے لے کر تمام ترقی پسند شعراء کے کلام میں موجود ہے۔ اُردو میں جنگ آزادی کا ہر مرحلہ یا واقعہ ایسا نہین کہ موجود نہ ہو۔ اُردو شاعری میں سیکڑوں استعارے آزادی کے تعلق سے لکھے گۓ ہیں۔ اُردو زبان کی تاریخ مختلف ہے۔ 1758ء میں قرآن شریف کا  پہلی مرتبہ اُردو میں اس وقت  کے عالم شاہ عبدالقادر نے لکھا تھا۔ اس وقت کے علماء نے کہا تھا  اس مقدس کتاب کا ترجمہ ایک ایسی زبان میں  کیا ہے جو بے ادب زبان ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ  دنیا میں زبانیں مذہب کی نہیں بلکہ علاقوں کی ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو قومی نظریہ ناکام ہونے کی وجہہ اُردو  ہے۔ زمین بانٹ سکتے ہیں لیکن زبان  کو منقسم نہیں کیا جا سکتا۔ اُردو وہ زبان ہے جسے دہلی، لکھنؤ، اودھ اور حیدرآباد نے سنوارہ تھا۔ یہاں سے اُٹھا کر ان علاقوں میں رکھ دیا گیا جن کا اُردو سے کویٔ تعلق  نہیں تھا۔ اُردو ہندی کے امتزاج کے تعلق سے جناب جاوید اختر نے کہا جب تک کویٔ بات  سمجھ میں آتی ہے تو لوگ اس کو اُردو کہتے ہیں۔ اور جب کویٔ بات سمجھ میں  نہیں آتی تو کہتے ہیں کہ یہ ہندی ہے۔ غلط فہمی کی بنا پر اکثر لوگ اُردو کو ہندی کہتے ہیں۔ فلموں کے سرٹیفیکیٹ پر ہندی کیوں لکھا جاتا ہے جب کہ فلموں کی زبان اور گیت اُردو میں ہوتے ہیں۔ یہ آزادی سے پہلے سے چلتا آرہا ہے۔ مکالمہ نگار آنند بخشی، منشی بے دل، مجروح سلطانپوری، کیفی

آعظمی، جانثار اختر، اختر الایمان، آنند راج آنند اور خواجہ احمد عباس ۔۔۔ اُردو میں لکھا کرتے تھے اور وہ خود (جاوید اختر) اُردو میں ہی لکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دور درشن اور آل انڈیا ریڈیو پر ہندی کے سخت ترین الفاظ کا استعمال ہوتا ہے۔ لیکن خانگی چینلس پر زباندانی غلط ہی صحیح لیکن اُردو کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا یہ عین ثبوت ہے کہ ہندوستانی سماج میں اُردو اتنی گہرایٔ تک اتر چکی ہے کہ اس کے بغیر شہری و صنعتی تہذیب کا  تصور  محال ہے۔ تہذیب اور تمدن زبان ہی میں پنہاں ہیں۔ کیٔ برس تک استعمال ہونے والی زبان  اُردوکو ، شمالی ہند میں جب نظر انداز کیا گیا تو وہاں کی تہذیب اور طور طریقے، اخلاق اور کردار ہی بدل گۓ۔ صرف کالج اور یونیورسٹی میں اُردو  را ٔیٔج کرنےسے مسٔلہ حل نہیں ہوگا۔ یہ دنیا آج ایک گلوبل ولیج بن گیٔ ہے۔ نیٔ نسل کو اردو، ہندی کے ساتھ ساتھانگریزی پر بھی مہارت حاصل کرنا چاۂے۔  مادری زبان کا سیکھنا اس لۓ ضروری ہے کہ ہمیں اپنی تہذیب اور زمین سے جڑے رہنا ہے۔

مرکزی ساہتیہ اکیڈمی کے صدرنشین جناب گوپی چند نارنگ نے اپنی تقریر میں کہا کہ  جس اُردو  زبان نے جنگ آزادی میں  انتہایٔ اہم کردار ادا کیا ۔۔۔  آج وہی اپنے حقوق کے لیۓ لڑ رہی ہے۔ جنگ آزادی کے وقت جو مذہبی اور نیم مذہبی تحریکیں پیدا ہویٔں ان میں شاہ ولی اللہ دہلوی کی" اصلاحی تحریک"  سب سے اہم تھی۔ اپردو شعراء میں مومنؔ اس تحریک سے خاص طور پر متاثر تھے۔ وہ غیر ملکی حکومت کے خلاف جہاد کو اصل ایمان اور اپنی جان کو اس راہ میں قربان کرنے کو ایک عبادت سمجھتے تھے۔

؂          الٰہی  مجھے   بھی شہادت  ہو   نصیب

            یہ  افضل  سے افضل عبادت ہو نصیب

؂          یہ   دعوت  ہو   مقبول    درگاہ    میں

مری  جاں   فدا   ہو   تری   راہ      میں

مولانا آزاد یونیورسٹی کی ستا  شٔ کرتے ہوۓ آپ نے کہا کہ پروفیسر ایم اے پٹھان نے ملک کے طول و عرض میں یونیورسٹی کے علاقایٔ اسٹڈی سنٹرس قأم کر تے ہوےؐ ایک بڑا کام کیا ہے۔

پدم و بھوشن پروفیسر عبید صدیقی ، چانسلر اُردو یو نیورسٹی نے اپنے صدارتی خطبے میں  مشورہ دیا کہ شعراء، ادیب اور تمام اساتذہ  کو چاہیے کہ آسان اور عام بول چال کی زبان  کا استعمال کریں،  تا کہ  اُردو زبان کا دایٔرہ وسیع ہو سکے۔ مولانا آزاد یو نیورسٹی کی جانب سے فاصلاتی نظام کے تحت جو کورسس شروع کیۓ گۓ ہیں اس میں بڑی تعداد خواتین کی ہے۔  بالخصوص کرناٹک میں بڑی تعداد میں طلباء و خواتین یونیورسٹی کے کورسیس میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔۔

اس موقع پر پروفیسر عبید صدیقی نے " غالب شاعرِ زیست" اور پروفیسر ایم اے پٹھان نے "اُردو شاعری اور حب الوطنی" پر کتب کا رسم اجرا کیا۔

ابتداء میں وایٔس چانسلر  نے مہمانوں کا استقبال کیا اور ڈاکٹر کے۔ ّآر اقبال احمد پرو واسٔ چانسلر و انچارچ رجسٹرار نے یونیورسٹی کی تعلیمی سرگرمیوں پر مبنی رپورٹ پیش کی۔ پروفیسر خالد سعید نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد  پر روشنی ڈالی۔ آخر میں ڈاکٹر محمد ظفر الدین ریڈر صدر شعبہ ترجہ نے شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر شجاعت علی راشد، انچارج شعبہ تعلقات عامہ نے نظامت کے فرایٔض انجام دۓ۔

ابتدایٔ تقریب کے بعد ۱۲/ اور ۱۳/ مارچ کے دن کانفرنس ہال میں مختلف موضوعات پر سیمینار منعقد ہوۓ۔ کل چھ اجلاس ہوۓ جس میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا،  پاکستان اور ملک کے دوسرے علاقوں سے آۓ ہوۓ اسکالرس، ادباء اور شعرا نے منتخب  موضو عات پر مقالے پیش کۓ ۔ ۱۲/ مارچ کو ۱۱:۳۰ بجے دن ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان "جدوجہد آزادی" کے  عنوان پر ادارہ سیاست کے تعاون سے ایک تصویری نمایٔش  پیش کی گیٔ۔

رپورٹ اور تصویر بشکریہ روزنامہ منصف، حیدرآباد

homepage.jpg