fina-sherosokhan-animat.gif

Shamsur Rehman Farooqui

برے صغیر پاک و ہند میں اس دور کا محترم نام "شمس الرحٰن فاروقی"

شمس الرحمٰن فاروقی کے اعزاز میں

ممبیٔ میں ادبی میگزین "اردو چینل" کے زیر اہتمام جلسہ

 

میرین لایٔنس:   شمس الرحمن فاروقی کے ساتھ ایک شام آج یہاں  اسلام جیم خانہ میں منایٔ گیٔ۔ اردو چینل ادبی مجلّہ کے زیر اہتمام اس تقریب میں شہر اور نواح کے اکثر ممتاز لکھنے والے اور ادیب اپنے عہد کے ایک اہم ترین ادیب شمس الرحمٰن فاروقی کو سنّے کے لۓ اور ان سے گفتگو کرنے کے لۓ حا ضر ہوۓ تھے۔ سب سے پہلے شہر کی ایک مشہور شخصیت  اور اسلام جیم خانہ کے صدر ذکا اللہ صدیقی نے حاضرین اور مہمان خاص کا استقبال کرتے ہوۓ شمس الرحمٰن فاروقی کے حوالے سے فراق گورکھپوری کا یہ مشہور شعر، خالص  الہ آبادی انداز میں پڑھا ۔ شعر ملا حظہ کیجۓ ؂

                                                آنے والی نسلیں تم پر فخر کریں  گی  ہم  عصرو    !

                                                جب ان کو یہ دھیان آۓ گا ، تم نے فراق کو دیکھا ہے

ڈاکٹر قاسم امام  نے مہمان خاص سے حاضرین کا نام بنام تعارف کرایا۔ اردو چینل کے مدیر قمر صدیقی نےاپنے جریدے سے جناب فاروقی سے تعلق کی تفصیل اور ان سے ملنے والی حوصلہ افزایٔ کا ذکر،ایک فخر یہ انداز سے کیا ۔اکثر حاضرین نےاس تقریب میں جناب فاروق کے شایان شان پھولوں اور شالوں کا نذرانہ پیش کیا۔

مشہور افسانہ نگار سلام بن رزاق یہ جملہ جو کسی کے اعتراض کے جواب میں کہا گیا تھا، کہا کہ  "فاروقی نے جتنا کچھ لکھا ہے اس کو صرف پڑھنے کے لۓ ایک عمر درکار ہے"،  انھوں نے فاروقی کے تازہ ناول " کیٔ چاند تھے سرے آسماں" کو پیش نظر رکھتے ہوۓ سوال کیا کہ انھوں نے اپنے جریدے  " شب خون" میں جس طرز کے افسانے کو فروغ دیا تھا، ان کو شایعٔ کیا وہ بالکل جدید رویے کا اشاریہ تھے مگر ، جب جناب والا خود نے فکشن لکھا تو وہ روایتی اورداستانی اندازاختیار کۓ ہوۓ ہے، آخراس کی کیا وجہہ ہے ؟

پروفیسر فضیل جعفری نے اپنے لڑکپن کے ساتھی اوردوست فاروق کے تعلق سے ان کا تعارف کراتے ہوۓ بعض باتیں ایسی بھی بتایٔں جن سے اکثر حاضرین بے خبر تھے۔ مثلاً شمس الرحمٰن فاروق کا نام ہی انھوں نے ( اور ان کے رفقا نے) پہلی بار تب سنا جب فاروقی نے الہ آباد یونیورسٹی سے انگلش میں ایم اے  ٹاپ میں کیا تھا۔ انھوں نے شمس الرحمٰن فاروقی کے مطالعہ  کے تعلق سے یہ کہا کہ مطالعہ ایک عمل ہے اس مطالعے کو ہضم کرنا دوسرا عمل اور اس ہاضمے سے قوت کا حصول تیسرا عمل ہے ۔ فاروق نے قدرے تاخیر سے (۱۹۶۴ ) لکھنا شروع کیا مگر وہ دوسروں کے لۓ ایک مثال بن گۓ۔ ان کا پہلا اہم مضمون "ترسیل کی ناکامی کا المیہ جب شایٔع ہوا تو برسوں اس پر بحث ہویٔ بلکہ آج تک وہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اسی طرح چالیس سال تک جاری رہنے کے بعد جریدے "شب خون" ٔ کا بند ہونا بھی ایک باب سخن کا بند ہونا ہے۔ یہاں یہ بتا نا بھی غیر ضروری نہیں کہ  یہ پہلا جریدہ ہے کہ جس کے مدیر نے اسے بالاعلان بند کیا۔ رہی فاروقی سے اختلاف تو میاں ، اختلاف تو پڑھے لکھے سے ہی ہوگا ۔۔۔  کسی گھسیارے سے نہیں۔۔ فضیل جعفری ہی کی تقریرسے یہ بات بھی سامنے آیٔ کہ" داستان امیر حمزہ" جو46 جلدوںمیں ہے فاروقی کا غالباً واحد کتب خانہ ہے جہاں یہ ساری جلد یں  موجود ہیں اور اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان کا تازہ ناول (کیٔ چاند تھے سرے آسماں) جنھوں نے یہ ناول پڑھا ہے وہ یقین سےکہہ سکتے ہیں کہ یہ ناول 46جلدوں کے مطالعہ کا بھر پور حاصل بن گیا ہے۔ جعفری صاحب نے یقین بھرے لہجہ میں کہا کہ شمس الرحمٰن فاروقی ہمارے عہد کا بر صغیر پاک و ہند میں محترم ترین نام ہے ۔ انھوں نے کہ حیرت ہوتی ہے ایک بڑا افسر ہوتے ہوۓ انھوں نے اتنے کام کیسے کر لۓ ، اپنی مصروفیت سے کیسے وقت نکالا ، اور یہاں یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ  جناب فاروقی نے کچھ بھی رواروی میں نہیں لکھ۔ بقول محمد حسین" آزادٔ شہرت دوام تو عطاۓ الٰہی ہے۔"

شمس الرحمٰن فاروقی نے اپنی تقریر میں سب کا اور بالخصوص" اردو چینل" کے جملہ متعلقین کا شکریہ ادا کرتے ہوۓ جریدے مذکور کے تعلق سے بڑے تحسین آمیز جملے کہے۔ آپ نے کہ " ہمارے عام اردو پرچے بنیے کی  دوکان ہوتے ہیں کہ ان میں ہر طرح کا مال موجود ہوتا ہے۔ مگر "اردو چینل" کے ساتھ ایسا نہیں ہے ، اس میں جوبھی شامل ہوتا ہےوہ ایک سلیقہ کا حامل دکھایٔ دیتا ہے جناب فاروقی نے اپنی گفتگو میں "اظہار" اور جواز جیسے اہم جرایٔد کا بھی تذکرہ کیا۔ اسی دوران انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایک لفظ عام ہے ۔۔۔  "ادب نوازی" جب کہ سچ یہ ہے کہ ادب تو ہم کو خود نوازتا ہے۔   

s_farooqi_photos.jpg
s_farooqi_photos2.jpg

homepage.jpg