کا نام وابستہ
ہوتا ہے۔ اقبال نے اپنی
شاعری کے ابتدائی دور
میں منظوم ترجموں کی طرف
توجہ کی۔
جس طرح
اردو شاعری کی اہم صنف
منظوم ترجمہ پر اس وقت
تک بہت کم توجہ دی گئی ہے،
اسی طرح اگر اقبال کی شاعری
کے کسی گوشہ کو قریب قریب
نظر انداز کیا گیا ہے تو
وہ اقبال کے منظوم ترجمے
ہیں۔ حالانکہ اقبال نے
جو منظوم ترجمے کئے ہیں
ان کے علاوہ ان کی شاعری
کا ایک قابلﹺ لحاظ حصہ ایسا بھی
ہے جو مغربی شعراء کے کلام
سے متاثر ہے۔
پروفیسر
عبد القادر سروری اپنی
کتاب "جدید اردو شاعری"
میں لکھتے ہیں۔
"اقبال
کی ابتدائی شاعری کا ایک
حصہ ایسا بھی ہے جو مغربی
شعراء جیسے ٹینی سن، ایمرسن
اور گوئٹے وغیرہ کے کلام
سے ماخوذ ہے، یہ درحقیقت
اقبال کی موضوعی نظموں
کا اولین نقش ہیں۔ اکثر
شعراء جنہوں نے مغربی
نظموں کے مقابلے میں نظمیں
لکھنے کی کوشش کی ہے، پہلے
مغربی شعراء کے کلام کو
نمونہ بناتے رہے۔"
مخزن اپریل
۱۹۰۴ء میں سر عبدالقادر
کا سہ سالہ ریویو شائع
ہوا ۔ انہوں نےلکھا :
مخزن کا
ایک مقصد اردو نظم میں
مغربی خیالات، فلسفہ
اور سائنس کا رگنگ بھرنا
اور نتیجہ خیز مسلسل نظم
کو رواج دینا تھا تاکہ
نظم اردو کا رنگ نکھرے،
اس کے اثر کا حلقہ وسیع
ہو اور جو لوگ انگریزی
نظم کی خوبیوں کے دلدادہ
ہیں ان کی نسل کے لیے بھی
کچھ سامان ملکی زبان میں
مہیا ہو جائے۔ یہ مقصد
بھی خاطرخواہ پورا ہوا
اور اس کے پورا کرنے میں
سب سے زیادہ کوشش شیخ محمد
اقبال صاحب ایم اے اور
نیرنگ بی۔اے کی
طرف سے ہوئی، جن کے کلام
کا مجموعہ جب شائع ہوگا
تو شائقین دیکھیں گے کہ
کتنے نئے خیالات اور کس
کس خزانے کےعلمی جواہرات
ان دل آویز چھوٹی چھوٹی
نظموں میں جمع کئے گئے
ہیں۔
اقبال
نےانگریزی ادب کا بنظر
غائرمطالعہ کیا تھا اوراس
پر ان کی گہری نظرتھی۔
یورپ اور انگلستان کے
قیام اور وہاں کی تعلیم
کے دوران انگیزی ادب سےان
کی دلچسپی میں اضافہ ہوا۔
اپنے ہم عصر ادیبوں کی
طرح ان کی بھی خواہش تھی
کہ مغربی ادب کے فن پاروں
سے اردو ادب مالا مال کریں
۔ جب اقبال ۱۹۰۸ ء کے وسط
میں یورپ سےواپس ہوئےتومخزن
کے اڈیٹر شیخ عبدالقادر
نے ان سے فرمائش کی کہ وہ
انگریزی نظموں کے منظوم ترجموں کی طرف توجہ
کریں۔ چنانچہ مخزن کے
پہلے شمارہ ﴿اپریل ۱۹۰۱ء
﴾ میں اقبال کی نظم "کوہستان
ہمالہ" کے عنوان سے شائع
ہوئی جس پر اڈیٹر کی طرف
سے یہ نوٹ ہے۔
شیخ محمد
اقبال صاحب ایم اے قائم
مقام پروفیسر گورنمنٹ
کالج لاہور جو علوم مشرقی
اور مغربی دونوں میں صاحب
کمال ہیں، انگریزی خیالات
کو شاعری کا لباس پہنا
کر ملک الشعراانگلستان
ورڈسورتھ کے رنگ میں ہمالہ
کو یوں خطاب کرتے ہیں۔
اپنی ابتدائی
شاعری میں اقبال نے مغربی
شاعروں سے بھر پور استفادہ
کیا۔ اس کے متعلق لکھتے
ہیں۔
"میں اعتراف
کرتا ہوں کہ میں نے ہیگل،
گوئٹے، غالب، بیدل، اور
ورڈ سورتھ سے
﴿۲﴾