fina-sherosokhan-animat.gif

Mohtarma Akhtar Jamal ka Inteqal

افسانہ نگار اختر جما ل کا  انتقال ہو گیا

 

یہ خبرپوری اردو دنیا میں افسوس کے ساتھ سنی جائیگی کہ آج ۹ فبروری ۲۰۱۱ کی صبح مشہور و معروف افسانہ نگار بیگم اختر جمال کا اسی برس کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ وہ کئی کتابوں کی مصنفہ تھيں جن میں انگلياں فگار اپنی، زرد پتوں کا بن، خلائی دور کی محبت، سمجھوتہ ايکسپریس، ہری گھاس سرخ گلاب، اور پھول اور بارود، بیسویں صدی کے نصف آخر کے نثری ادب کا بیش بہا خزینہ ہیں۔ ان کے متعدد افسانوں کے ترجمے دوسری زبانوں ميں شائع ہوکر مقبول ہوچکے ہیں۔

اختر جمال ۲۲ مئي ۱۹۳۰ ء کو بھوپال میں پيدا ہوئیں۔ بھوپال، ناگ پور، اور پنجاب میں تعليم حاصل کی۔ نیزپشاور یونيورسیٹی سے اردو ميں ایم اے کیا۔ عمر بھر شعبہء تعليم سے وابستہ رہیں۔ ايبٹ آباد، گجرات، راول پنڈی، اور اسلام آباد کے کالجوں میں تدریسی فرائض انجام دینے کے بعد سبکدوش ہوئيں۔ وہ ایک عرصے سے کینيڈا کے دارالخلافہ آٹوا ميں قيام پذیر تھیں۔

اختر جمال کے شوہر احسن علي خاں کا بہت پہلے انتقال ہو چکا تھا۔ اسلام آباد ميں اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائزاحسن علي خاں شاعر بھي تھے۔ ان کا شعری مجموعہ ميں محسوس کرتا ہوں ميں سوچتا ہوں کے نام سے ۱۹۷۷ء ميں راولپنڈی سے شائع ہوا تھا۔

خدا اخترجمال کو اپنے جوار رحمت ميں جگہ دے۔ آمین۔ ان کے پس ماندگان میں ایک بيٹا طارق احسن، بہو نوشين، اور پوتی شہربانو ہیں جو آٹوا کی نواحی بستی اورلينس میں آباد ہيں۔

                                                 شاہین

 

linedivider.jpg

homepage.jpg