fina-sherosokhan-animat.gif

Fkharuzzaamn , Chairman Acadmy of Pakistan in Denmark

اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین جناب فخر زمان کا دورہء ڈنمارک
Sunday, 01.02.2011, 02:39pm (GMT+1)

اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین جناب فخر زمان کا دورۂ ڈنمارک

رپورٹ :  ھما نصر ،  مدیرہ ،  اردو ہمعصر ڈاٹ ڈی کے

اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین جناب فخر زمان پچھلے دونوں تین روزہ دورے پر یہاں ڈنمارک تشریف لائے ۔ اُن کے ساتھ اُن کی اہلیہ محترمہ (ڈاکٹر) فاطمہ حسین بھی تھیں ۔ جناب فخر زمان اور اُن کی اہلیہ کو اس دورے کی دعوت، ساؤتھ ایشین رائٹرز ایسوسی ایشن ڈنمارک اور ڈنمارک سے انٹرنیٹ پر شائع ہونےوالے پہلے اور اپنی نوعیت کے واحد اردو ادبی و ثقافتی جریدے ، اردو ہمعصر ڈاٹ ڈی کے ، کے بانی و مدیر اعلیٰ اور ڈنمارک ریڈیو کی اُردو سروس کے مدیر جناب نصر ملک نے دی تھی ۔

 ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں جناب فخر زمان اور اُن کی اہلیہ ڈاکٹر فاطمہ حسین نے تین دن  بہت مصروف گزارے اور اس دوران جہاں انہوں نے مختلف تاریخی جگہوں کی سیر کی وہاں انہوں  نے اپنے اعزاز میں منعقدہ ادبی و ثقافتی محفلوں میں شمولیت کی اور مقامی ڈینش و پاکستانی اور ہندوستانی ادیبوں، شاعروں اور آرٹ کی مختلف اصناف سے تعلق و دلچسپی رکھنے والے احباب سے فرداً   فردا ً  اور اجتماعی ملاقاتیں کیں ۔

کوپن ہیگن میں اکادمی ادبیات پاکستان   کے چیئرمین جناب فخر زمان اور اُن کی اہلیہ معروف دانشور ، ڈاکٹر  پروفیسر فاطمہ حسین کے اعزاز میں ساؤتھ ایشین رائٹرز ایسوسی  کی جانب سے منعقدہ ایک ادبی تقریب اور عشائیےمیں، ایسوسی ایشن کے صدر، معروف ادیب و شاعر  جناب نصر ملک نے خطاب کرتے ہوئے، فخر زمان کی علمی و ادبی قومی خدمات پر بھر پور روشنی ڈالی ۔ 

  نصر ملک نے کہا کہ  جناب فخر زمان کی قیادت میں اکادمی ادبیات پاکستان، پاکستانی زبانوں اور اُن میں لکھے گئے ادب کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ جس طرح اہل قلم برادری کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے اور یہی نہیں بلکہ زبان وادب کے شعبوں میں جس طرح سے مختلف موضوعات پر تحقیق کا کام شروع ہے اور اس کے ساتھ ہی  پاکستانی  زبانوں کے بین اللسانی تراجم کا بندوبست کر کے ، علاقائی و صوبائی زبانوں کے ادب کو پاکستانی قومی ادب کا حصہ بنا دیا ہے وہ قابل ستائش ہے ۔  انہوں نے مزید کہا کہ جناب فخر زمان نے  پاکستانی ادب کو عالمی سطح پر منظر عام پر لانے کے لیے پاکستانی ادیبوں و شاعروں کی تخلیقات کے تراجم کا بطور خاص بندوبست کروا رکھا ہے اور یہ تراجم ، اکادمی ادبیات کے ششماہی انگریزی رسالہ    پاکستان لٹریچر“ میں شائع ہوتے ہیں جو دنیا بھر میں پڑھا جاتا ہے ۔ فخر زمان  نے اکادمی کے  سہ ماہی اردو جریدے  “ ادبیات “ کے خصوصی  شمارے بھی شائع کرائے ہیں جن میں، افسانہ نمبر، غزل نمبر، اسلامی ادب نمبر، بین الاقوامی ادب نمبر، خواتین کا عالمی ادب نمبر، سارک ممالک کا منتخب تخلیقی ادب نمبر جبکہ قیام پاکستان کے بعد کی نسل کی تحریروں پر مشتمل منتخب ادب نمبر کے علاوہ احمد ندیم قاسمی نمبر ، نثری نطم نمبر اور احمد فراز نمبر بھی شامل ہے ۔  جب کہ ایک اور بڑا کارنامہ جو فخر زمان نے انجام دیا وہ  پاکستانی اہل قلم کے کوائف پر مشتمل ضخیم ڈائریکٹری کی اشاعت ہے. 

نصر ملک نے     اکادمی ادبیات کے چیئرمین جناب فخر زمان کی ان کوششوں کو بطور خاص سراہا جن کے تحت وہ  پاکستانی ادب کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور عالمی ادیبوں، شاعروں محققین  و سکالروں کو پاکستانی ادب سے روشناس کرانے اور انہیں پاکستانی دانشوروں، ادیبوں اور شعراء سے متعارف کرانے اور تبادلہء خیال کرنے کے مواقع مہیا کر رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں نصر ملک نے اکادمی ادبیات کی جانب سے ادبی و ثقافتی عالمی کانفرنسیں بلائے جانے کا بطور خاص ذکر کرتے ہوئے، فخر زمان کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ان کے اس اقدام سے دنیا بھر میں پاکستانی ادیبوں و شاعروں کی سوچ و فکر کا وسیع ابلاغ ہوا اور پاکستانی ادبی حلقوں کو عالمی علمی و ادبی برادری کے قریب آنے کے مواقعے میسر ہوئے ۔

  اسی تقریب میں بھارت کے نامور شاعر، ڈنمارک میں ... بین القومیتی افہام و تفہیم اور عالمی ادب اور فنون لطیفہ کی دیگر اصناف کے ذریعے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب تر لانے  اور کثیر الثقافتی سماج کی تشکیل کے لیے قائم تنظیم گوبل کمیونٹی “ کے چیئرمین اور ایف ایم “ ریڈیو سب رنگ “ کے ڈائریکٹر چاند شکلا ھدیہ بادی نے خطاب کرتے ہوئے، اکادمی ادبیات کے چیئرمین جناب فخر زمان کی علمی و ادبی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا ۔  انہوں نے کہا کہ فخر زمان جس طرح سے ادب کے ذریعے پاکستان و ہندوستان کے دانشوروں کو ایک پلیٹ فورم پر لانے اور انہیں سانجھی علمی و ادبی اقدار کے تحفظ اور فروغ کے لیے متحرک رکھے ہوئے ہیں وہ وقت کی عین ضرورت اور دونوں ملکوں کے سانجھے ادبی تشخص کے تحفظ کے لیے بہت ہی اہم ہے

 چاند شکلا ھدیہ بادی نے پنجابی ادب کو اجاگر کرنے اور پنجابی زبان کے فروغ کے لیے  فخر زمان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ فخر زمان کی ان کوششوں سے آج ہر دو پنجاب کے لوگ اپنے اسلاف کی اقدار کو مشترکہ سرمایہ سمجھنے لگے ہیں اور لاہور و امرتسر اور اسلام آباد و دہلی کے درمیان فاصلے کم ہوتے جا رہے ہیں ۔ چاند شکلا ھدیہ بادی  نے  کہا کہ دونوں ملکوں کے دانشوروں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور لوگوں میں بھائی چارہ اور باہمی رفاقت پیدا کرنے کے لیے خدمات کے اعتراف کے طور پر بھارت سرکار کی جانب سے فخر زمان کو ملک کا سب سے بڑا سول اعزاز عطا کیا گیا ہے اور وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ فخر زمان ہندوستانی لوگوں کے کتنے قریب ہیں ۔

اس موقع پر چاند شکلا ھدیہ بادی نے اپنا ایک قطعہ بطور خاص، فخر زمان کی نذر کیا، لجینے آپ بھی ملاحظہ کریں

 

آج محفل میں میری روح رواں آیا  ہے

ایک  پیغام  محبت  کی  زبان   لایا   ہے

سرمئی شام ہے روشن یہ پیار ہے جس سے

محفل  چاند  میں  وہ  فخر  زمان  آیا  ہے

 اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین جناب فخر زمان اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر فاطمہ حسین کے اعزاز میں منعقد کی گئی اس خصوصی تقریب میں   فنون لطیفہ سے تعلق و دلچسپی رکھنے والے کئی دیگر احباب کے علاوہ، ریڈیو اسلام کےڈائریکٹر اور معروف سوشل ورکر جناب ظہور ملک، ڈنمارک سے شائع ہونےوالے اردو جریدے “ سہارا ٹائمز “ کے مدیر جناب سلطان  محمود گوندل، راسلیکڈے یونیورسٹی کے پروفیسر، سوشیالوجسٹ اور معروف سوشل ریسرچر جناب مصطفےٰ  حسین کے علاوہ کئی علمی ادبی ذوق رکھنے والی پاکستانی کاروباری شخصتیوں نے شمولت کی جن میں جناب طاہر احمد ( سٹی ٹو) اور  جناب محمد اکرام و جناب ملک احسن بھی شامل تھے۔

  تقریب میں شامل،  فروغ ادب کے لیے متحرک“ اردو ادبی فورم “ کے روح رواں اور معروف شاعر، صاحب دیوان جناب اقبال اختر،  معروف شاعر و مادری زبان کے اُستاد جناب آغا صفدر اور نوجوان شاعر و صاحب دیوان جناب کامران اقبال عظیم اور ڈنمارک میں اردو ادب کی آبیاری کے لیے کوشاں “ بزم ادب “ کے بانی و روح رواں معروف شاعر اور صاحب دیوان جناب ترغیب بلند نقوی، نصر ملک اور چاند شکلا ھدیہ بادی نے اپنا اپنا کلام  سنایا اور خوب داد پائی ۔

تقریب کے مہمان خصوصی، اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین جناب فخر زمان نے اپنے خطاب میں اکادمی ادبیات کی سرگرمیوں اور جاری پروگراموں کے حوالے سے بتایا کہ  اکادمی کا قیام جناب ذوالفقار علی بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دور میں ایک خود مختار ادارے کی حیثیت میں ١٩٧٦ کو عمل میں آیا تھا اور وہ خود دوسری مرتبہ اکادمی کے چیئرمین کی حیثیت میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔  انہوں نے اکادمی  کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اکادمی پاکستانی زبانوں، اُن کے ادب کے فروغ اور اہل قلم برادری کی فلاح  و بہبود کے حکومت پاکستان کو جہاں پالیسی امور پر مشاورت مہیا کرتی ہے وہاں اسی سلسلے میں خود بھی پیش پیش رہتی ہے۔

جناب فخر زمان نے کہا کہ قومی یکجہتی اور فکری مفاہمت کے فروغ کے لیے اکادمی کے تحت دارالترجمہ موجود ہے جہاں پاکستان کی مختلف زبانوں کے ادب کو بین الصوبائی زبانوں میں ڈھالا جا رہا ہے جب کہ پاکستانی زبانوں میں تحقیقی کام کی سہولت کے لیے اپنی نوعیت کی ایک منفرد لسانی تجربی گاہ، لائبریری اور دستاویزی مرکز کے قیام پر بھی کام جاری ہے اور غیر ملکی قارئین کو پاکستانی ادبیات سے متعارف کرانے کے لیے باقاعدہ کوشش کی جار ہی ہے ۔

 جناب فخر زمان نے کہا کہ محدود مالی وسائل رکھنے والے ادیبوں کی مالی اعانت اور اُن کے ادبی و اشاعتی مفادات کے تحفظ کے لیے بھی خاطر خواہ بندوبست کیا گیا ہے جب کہ بین الاقوامی علمی و ادبی اجتماعات و کانفرنسوں میں پاکستانی ادیبوں کی شمولیت اور پاکستانی ادب کی نمائندگی کے لیے بطور خاص اقدامات لیے گئے ہیں ۔ جناب فخر زمان نے بتایا کہ  پاکستان کے صوفی شعرا کے کلام کے تراجم اقوام متحدہ کی چھ زبانوں اور فارسی میں شائع کیے گئے ہیں اور حال میں اکادمی ادبیات کے تحت منعقد ہوئی عالمی صوفی کانفرنس میں شامل ایک سو سے زائد عالمی مندوبین کو تحفہ دیئے گئے تھے ۔

پاکستانی اہل قلم کی فلاح کے لیے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے جناب فخر زمان نے کہا  کہ ایک خصوصی فنڈ کے تحت ادیبوں کی گروپ انشورنش کی سکیم متعارف کرائی گئی ہے اور اب تک کوئی سات ساڑھے سات سو ادیبوں کی گروپ انشورنش کرائی جا چکی ہے ۔

جناب فخر زمان نے بتایا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کی عمارت میں ایک خوبصورت اور جدید سہولتوں سے مزین “ رایٹرز ہاؤس تعمیر کیا گیا ہے جہاں اندرون ملک اور بیرون ملک سے آنے والے ادیبوں کے لیے انتہائی کم خرچ پر قیام کی سہولت کا بندوبست ہے اور یہ رائٹرز ہاؤس دس کمروں پر مشتمل ہے ۔  انھوں نے یہ بھی بتایا کہ علمی و ادبی کانفرنسوں، سیمنارز اور دیگر ثقافتی تقریبات کے انعقاد کے لیے فیض احمد فیض آڈیٹوریم کی تعمیر بڑی تیزی سے جاری ہے ۔ جناب فخر زمان نے  بتایا کہ اکادمی ادبیات پاکستان اپنا ایک ایف ایم ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشن بھی قائم کرنے والی ہے تاکہ پاکستانی ادب کے فروغ کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور نشریاتی سہولتوں سے استفادہ کیا جا سکے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس منصوبے پر جلد ہی عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا ۔  جناب فخر زمان نے مزید بتایا کہ اکادمی ادبیات پاکستان خود اپنا ایک پرنٹنگ پریس لگا رہی ہے تاکہ اکدامی کو اپنی کتابوں کی اشاعت کے سلسلے میں کبھی بھی کسی تاخیر یا رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا  پڑے ۔

جناب فخر زمان نے ڈنمارک میں پاکستانی زبانوں میں ادب تخلیق کرنے والوں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس پر خوشی کا اظہار کیا کہ یہاں رہنے والے پاکستانی و ہندوستانی ادیب و شعراء اپنی اپنی زبانوں میں ادب تخلیق کر رہے ہیں ۔  انہوں نے تقریب میں شامل پاکستانی و ہندوستانی اہل قلم کا شکریہ ادا کیا کہ وہ اتنی سخت برفباری کے باوجود اُن سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئے۔ جناب فخر زمان نے اس تقریب کے میزبان ، نصر ملک کا بطور خاص شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ڈنمارک میں پاکستانی و ہندوستانی ادیبوں سے اُن کی ملاقات کے لیےایک یادگاری تقریب کا اہتمام کیا ۔

تقریب کے اختتام پر،  نامور شاعر، ڈنمارک میں گلوبل کمیونٹی  تنظیم کے صدر، اور ریڈیو سب رنگ کے ڈائریکٹر، چاند شکلا ھدیہ بادی  اور کوپن ہیگن سے شائع ہونے والے ماہنامہ  “ سہارا ٹائمز“ کے ایڈیٹر  سلطان محمود گوندل نے جناب فخر زمان اور ان کی اہلیہ کو تحائف پیش کئے ۔

 

تقریب کے شرکاء  نے اس بات کو بطور خاص سراہا کہ جناب فخر زمان اور ان کی اہلیہ محترمہ ڈاکٹر فاطمہ حسین کے اعزاز میں پر تکلف تقریب اور عشائیے کا بندوبست “ ٹرنکےبار کیفے “ میں کیا گیا۔ ٹرنکے بار کیفے، دارالحکومت کوپن ہیگن میں وہ واحد کیفے ہے جو ادیبوں، شاعروں، مصوروں اور فنون لطیفہ کی کسی بھی صنعف سے تعلق رکھنے والے ڈینشوں اور تارکین وطن کے اکٹھا ہونے اور اپنی اپنی تخلیقات پیش کرنے اور ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کرنے کے مواقعے مہیا کرتا ہے ۔

 اس سے پہلے اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین جناب فخر زمان اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر فاطمہ حسین کےکوپن ہیگن پہنچنے پر، جناب نصر ملک اور ڈنمارک سے شائع ہونےوالے “ ماہنامہ وطن نیوز “ کے بانی و ایڈیٹر جناب امانت علی چوھدری نے، ہوائی اڈے پر اُن کا پر تپاک استقبال کیا ۔  بعد میں امانت علی چوھدری نے دونوں مہمانوں کو کوپن ہیگن میں اور اس کے گرد و نواح میں تاریخی جگہوں کی سیر کرائی اور ایک پر تکلف ظہرانہ دیا ۔

حج فاؤنڈیشن ڈنمارک کے ڈائریکٹر جناب مقبول حسین بھٹی نے بھی اپنے دفتر میں معزز مہمانوں کے لیے پر تکلف “ چائے پارٹی “ کا اہتمام کیا ۔

ریڈیو اسلام کےڈائریکٹر اور معروف سوشل ورکر جناب ظہور ملک اورڈنمارک سے شائع ہونےوالے اردو جریدے “ سہارا ٹائمز “ کے بانی مدیر جناب سلطان محمود گوندل اور کوپن ہیگن کی معروف پاکستانی کاروباری شخصیت جناب محمود الحسن نے جناب فخر زمان اور اُن کی اہلیہ کے اعزاز میں کوپن ہیگن کے معروف پاکستانی “ ریسٹورنٹ تندوری مسالہ “ میں ایک پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا جس میں شہر کی کئی ایک پاکستانی شخصیتوں نے شمولیت کی اور معزز مہمانوں کے ساتھ علم و ادب کے حوالے سے خیالات کا تبادلہ بھی کیا ۔

 

linedivider.jpg

untitleda.jpg
untitled2a.jpg
u1_photo5a.jpg
u1_photo4a.jpg
u1_photo3a.jpg
u1_photo2a.jpg
untitled8a.jpg
 
 
 

homepage.jpg