fina-sherosokhan-animat.gif

Mustansar Hussain Tarar in Denmark
mustanst-in-denmark.gif
mustanst-in-denmark2.gif

d_zub0048.jpg
d_zub0047.jpg
denmark_zub0033.jpg
denmark_zub0029.jpg
d-sadaf-compar.jpg
denmark-stage.jpg
d-sadafbook.jpg
dn-group.jpg
denmark_zub0053.jpg
d-alia.jpg
denmark_zub0032.jpg
denmark_zub0031.jpg
denmark_zub0026.jpg
denmark_zub0025.jpg

linedivider.jpg

ڈنمارک سے ایک اور رپورٹ جناب نصر ملک صاحب نے ارسال کی ہے جسے ہم درج ذیل پیش کر رہے ہیں۔ ساتھ میں نصر ملک صاحب کا تحریر کردہ مضمون بھی پڑھا جا سکتا ہے۔؎
ادرہ شعر و سخن

پاکستان کے معروف ادیب، سفر نامہ نگار، اور براڈ کاسٹر جناب مستنصر حسین تارڑ نے پچھلے دنوں ، مقامی ٹی وی لنک اور ماہنامہ سہارا ٹائمز کی مشترکہ دعوت پر، ڈنمارک کا دورہ کیا ۔ اُن کے ہمراہ اُن کی اہلیہ بھی تھیں ۔ کوپن ہیگن پہنچنے پر ، بھارت کے نامور شاعر، ڈنمارک میں گلوبل کمیونٹی کے صدر، اور ریڈیو سب رنگ کے ڈائریکٹر، شری چاند شکلا ھدیہ بادی نے ان کے اعزاز میں “ ٹرنکےبار کیفے “ میں ایک پر تکلف ضیافت کا اہتمام کیا ۔ ٹرنکے بار کیفے، دارالحکومت کوپن ہیگن میں وہ واحد کیفے ہے جو ادیبوں، شاعروں، مصوروں اور فنون لطیفہ کی کسی بھی صنعف سے تعلق رکھنے والے ڈینشوں اور تارکین وطن کے اکٹھا ہونے اور اپنی اپنی تخلیقات پیش کرنے اور ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کرنے کے مواقعے مہیا کرتا ہے اور یہ ساری رونقیں شری چاند شکلا ھدیہ بادی ہی کی وجہ سے ہیں ۔
اسی شام مستنصر حسین تارڑ کے اعزاز میں ٹی وی لنک اور ماہنامہ سہارا ٹاٹمز کے تعاون و اشتراک سے ایک خوبصورت شام منائی گئی جس میں صدارت کے فرائض معروف اقبال شناش، اور “اقبال و سؤرن کر کیگارڈ“ انگریزی میں اور “ اقبال شاعر فردا“ نامی دو کتابوں کے مصنف غلام صابر، ڈائریکٹر اقبال اکادمی اسکینڈینیویا، ڈنمارک نے انجام دیئے اور مادری زبان کی ایک سابق معلمہ ،ابھرتی ہوئی شاعرہ اور ٹی وی لنک سے وابستہ، محترمہ صدف مرزا نے سٹیج سیکریٹری کے فرائض انجام دیئے ۔
اس تقریب میں، ڈنمارک سے جاری ہونے والے اردو کے سب سے پہلے اخبار “ صدائے پاکستان“ کے مدیر، معروف ادیب و افسانہ نگار، اور ڈنمارک ریڈیو کی اردو سروس کے ایڈیٹر و اسٹیٹ لائبریری میں شعبہ اردو و پنجانی و پسشتو کے لینگویج کنسلٹنٹ جناب نصر ملک نے مستنصر حسین تارڑ کی ادبی شخصیت پر ایک بھرپور مضمون پیش کیا ۔ جس میں مستنصر حسین تارڑ کی ادبی شخصیت کاجامع احاطہ کیا گیا تھا ۔ یہ مضمون “ اردو ہمعصر ڈاٹ ڈی کےپر پڑھا جا سکتا ہے ۔
محترمہ صدف مرزا نے تقریب میں اپنا ایک مضمون پیش کرتے ہوئے ڈنمارک میں “ نسوانی ادب کی ابتدا “ پر بھر پور انداز میں روشنی ڈالی جب کہ تقریب کے صدر جناب غلام صابر نے کلام اقبال ترنم سے پیش کرکے خوب داد حاصل کی ۔
تقریب کے مہمان خصوصی مستنصر حسین تارڑ نے، اپنے سفرناموں اور مختلف ناولوں کے حوالے سے خوب سیر حاصل گفتگو کی اور سامعین کے دل موہ لیے ۔ مستنصر حسین تارڑ نے اپنے کئی کالم اور سفر ناموں کے اقتباسات پڑھ کے حاضرین کو خوب محظوظ کیا اور داد پائی ۔ مستنصر حسین تارڑ اور ان کی اہلیہ ڈنمارک میں دو دن قیام کرنے کے بعد ہالینڈ روانہ ہو گئے جہاں سے انہیں پاکستان واپس جانا تھا ۔ ڈنمارک میں اپنے اس دو روزہ قیام کے دوران انہوں نے کئی جگہوں کی سیر کی اور مختلف احباب سے ملاقاتیں بھی کیں ۔

مستنصر حسین تارڑ کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں پڑھا گیا نصر ملک کا مضمون
آگہی کا نور پھیلاتا،  محبتوں کا سفیر
مُستنصر حسین تارڑ
از:  نصر ملک  ۔  کوپن ہیگن
 
ہماری آج کی اس محفل کے مہمان خصوصی جناب  مستنصر حسین تارڑ ایک ایسے مسافر ادیب ہیں جنہوں نے اردو سفرناموں کی روایت میں، اسکینڈے نیویا کو سب سے پہلے دریافت کیا ۔ گویا وہ اردو ادب کے پہلے کولمبس میں جنہوں نے ڈنمارک کو دریافت کیا ۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ،  مستنصر حسین تارڈ نے انیس سو ساٹھ کی دہائی میں اسکینڈینیویا کا سفر ان دونوں کیا جب ہم میں سے اکثر شمال مغربی یورپ کے اس دور افتادہ اور ایک طرح سے، دنیا سے کٹے ہوئے علاقے کے نام تک سے بے خبر تھے ااور ڈنمارک کو تو ہم سے کوئی بالکل جانتا تک نہ تھا ۔ اپنی اس سفری مہم کو انہوں نے  ''نکلے تیری تلاش میں '' کے نام سے شائع کرایا اور یوں اردو سفر ناموں میں یہ پہلی کتاب ہے جس میں دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ ڈنمارک کا ایسا تفصیلی ذکر ملتا ہے کہ میں آج بھی جب کبھی اس کتاب کی ورق گردانی کرتاہوں تو سوچتا ہوں کہ مستنصر حسین تارڑہمارے اس وطن ثانی کے بارے میں اُن دنوں اتنا کچھ جانتے تھے اور ایک ہم ہیں کہ یہاں تیس تیس بتیس بتیس سال رہنے کے باوجود نہیں جان پائے  خیر ۔۔۔۔ ( اوڈنسے کا نام ا'وڈن دیوتا ) ۔
 
جن احباب نے اپنے سفرناموں میں ڈنمارک کا ذکر کیا ہے ان میں مستنصر حسین تارڈ کے بعد یا انہی کیساتھ ساتھ، صادق قریشی بھی شامل ہیں جنہوں نے نوائے وقت میں سیلانی کی ڈائری کے عنوان سے ڈنمارک میں اپنے شب و روز کا ذکر کیا ہے ۔ اس کے علاوہ بالترتیب ، ہرچرن ثاولہ، رام لعل، جمیل دین عالی، بانو قدسیہ، اشفاق احمد، دلیپ سنگھ ( دل دریا )عطا الحق قاسمی، ڈاکٹر سعادت سعید اور ڈاکٹر وزیر آغا ، جاوید دانش،  آصف شہکارجاوید دانش اور  ڈاکٹر عبدال بیلا نے اپنے کالموں اور سفرناموں کی صورت میں ڈنمارک کا ذکر کیا ہے ۔ کلکتہ کے جناب، ف ۔ س۔ اعجاز اور کراچی کے قمر علی عباسی نے تو ڈنمارک  سے وابستہ اپنی یادداشتوں کو کتابی صورت میں شائع کیا ہے ۔
 
ہاں تو میں ذکر کر رہا تھا جناب مستنصر حسین تارڑ صاحب کا ۔
 
تارڑ صاحب کی صحرا نوردی، اور ان کی ملکوں ملکوں ، شہروں شہروں، بستی بستی سیر نے اردو ادب کو سفرناموں کی تاریخ میں  ٫ ایک محترم صنعف سے ہمکنار کیا ہے ۔ یہ شاید ان کے اسلوبِ تحریر کا جادو ہے یا ان کے اپنے مشاہدات میں محسوسات کی نگہتیں رچانے کا سلیقہ ہے کہ سفرنا مہ اُردو ادب میں ایک مقتدر صنعف کا درجہ حاصل کر چکا ہے ۔
 
مستنصر حسین تارڑ، خانہ بدوش کے روپ میں داستان ہنزہ سنا رہے ہوں یا  کسی کی تلاش میں، شمال کے سفر پر ہوں، وہ نانگا پربت  یا ، کے ٹوکی بلند ترین چوٹیوں پر ہوں یا اندلس کے گلی کوچوں میں ایک اجنبی کے  بھیس میں کہانیاں اکٹھی کر رہے ہوں ، وہ نیپالی نگریا میں ہوں یا کلاش کی وادیوں میں، وہ یاک سرائے میں بیٹھک جمائے ہوئے  داستان چترال  سنا رہے ہوں یا سنو لیک کے کنارے کھڑے ہوں یا اُن دیسوں کی تلاش میں ہوں جو پردیس بن چکے ہیں  یا پیکنگ کی پتلی کے ساتھ پینگیں چڑھارہے ہوں، وہ اپنے آپ میں '' شمشال بے مثال ''  دکھائی دیتے ہیں ۔  میں یہاں مستنصر حسین تارڑ کے صرف اُن سفر ناموں کا ذکر کر رہا ہوں جو میں نے خود پڑھے ہیں اور ہماری اسٹیٹ لائبریری اور رائل لائبریری میں موجود ہیں ۔ اک کے علاوہ تارڑ صاحب کی ناول نگاری پر مجھ جیسا اناڑی کیا کہہ سکتا ہے،  دیس ہوئے پردیس، پیار کا پہلا شہر، پرندے ، قلعہ جنگی،  بہاؤ ، راکھ، قربت مرگ میں محبت،اور جپسی  جیسے ناول اردو ادب کا ایک گرانقدرسرمایہ ہیں جو صرف تارڑ صاحب کی تخلیق کا ثمر ہے
 
مستنصر حسین تارڑ کے ناول  اور خاص کر سفرنامے جو میں نے پڑھے ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ تارڑ صاحب کی تحریروں میں ایساطلسم موجود ہے کہ قاری کو ماننا پڑتا ہے کہ مستنصر محض ایک سفرنامہ نگار ہی نہیں بلکہ ان کی وجہ سے اردو ادب میں سفرنامہ کلاسیکیت کا درجہ حاصل کر چکا ہے ۔ وہ اپنے سفر کے دوران اپنے قاری کو  ایک طرف '' آگہی '' اور دوسری جانب '' آسودگی و راحت '' بانٹے دکھائی دیتے ہیں اور خوب سے خوب تر کے قریب لے جاتے ہیں اور پھر اُس پر وہ اَن دیکھے مناظر یوں وا کر دیتے ہیں کہ جیسے وہ خود ذاتی طورمیں اُس مقام، اُس ملک اور اس شہر میں پہنچ چکا ہو جس کے بارے میں مستنصر کا سفرنامہ پڑھ رہا ہے ۔ 
 
مستنصر کو داستان گوئی کا جو سلیقہ حاصل ہے وہ ایک نعمت خداوندی  ہی تو ہے اور جبھی تو وہ جواںعمری ہی میں اتنی بلند ادبی قامت پر پہنچ گئے تھے کہ آج تک کوئی دوسرا ان کی ہمسری نہیں کر سکا ۔
 
مستنصر حسین تارڑ نے ناول و افسانہ  اور کالم نگاری اور ڈرامہ نگاری میں جو کمال دکھایا ہے وہ  کمال فن پر ان کی مکمل گرفت کا مسلمہ ثبوت ہے  لیکں ان سب کے مقابلے میں سفرنامہ لکھنا کوئی آسان کام نہیں ۔ سفرنامہ لکھنے والے کی مشکل یہ ہوتی ہے کہ اسے ان جگہوں،مقامات علاقوں اور ملکوں کی اسی طرح لفظی تصویر کشی کرنی ہوتی ہے اور وہاں کے حالات و رسومات، تمدن و تہذیب و ثقافت اور طرز بود و باش، موسموں کے رنگوں اور پھلوںکے ذائقوں کو اپنے قارئین کے سامنے اسی طرح پیش کرنا ہوتا ہے جیسے اس کی
 
آنکھ نے خود دیکھے ہوں اور ذہن و قلب نے محسوس کیے ہوں ۔  مستنصر حسین تارڑ کے فن تحریر کا کمال ہے کہ وہ اپنی خوردبینی کے کیمرے سے اتارے گئے مناظر کی جب تحریری تصویر کشی کرتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ مستنصر حسین خود ایک ماہر تاریخ دان، محقق اور دانشور گائیڈ کے طور پر اپنے قاری کو اپنے ساتھ قدم قدم چلاتے ، سب کچھ دکھاتے اور بتاتے ہیں کہ یہ کیا ہے، کیوں ہے، کیسے وجود میں آیا اور زمانے کے تغیر و تبدل نے اس پر کیا اثرات چھوڑے ہیں ۔ وہ اپنے قاری کے ذوق تجسس کا پورا احساس رکھتے میں اور یہی بات ہے کہ وہ اپنے اندر کے محسوسات کو بڑی ایمانداری کے ساتھ پیش کرتے ہوئے کوئی شے پوشیدہ نہیں رہنے دیتے ۔ اگر یقین نہ آئے تو ان کا سفرنامہ  ، نکلے تری تلاش ہی میں پڑھ کر دیکھ لیجیئے اور ڈنمارک کے بارے میں ان کی معلومات کا اندازہ خود لگا لیجیئے ۔
 
پچھلے دو ڈھائی عشروں میں سفڑ نامہ لکھنے والوں کی ایک خاصی تعداد پیدا ہو گئی ہے اور ان میں کئی ایک تو ایسے ہیں کہ وہ لاہور کی مال روڈ، کراچی  کی بندرروڈ یا راولپنڈی کے راجہ بازار سے گزر جائیں تو لندن و نیویار ک اور پیرس کا سفر نامہ چھپوا دیتے ہیں ۔ اور  عجیب بات جو ان مخصوص سفرنامہ نگاروں میں بڑی مشترک ہے کہ  انہیں اپنے سفر کے دوران کوئی نہ کوئی ایسی عورت ضورر مل جاتی ہے جو  انہیں دل دے بیٹھتی ہے یا وہ خود اس کی نیلگوں آنکھوں کی جھیل میں غوطہ زن ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں کئی پاکستانی و ہندوستانی اردو لکھاریوں کے سفرناموں کے اقتسابات پیش کرکے مغربی عورتوں کے ساتھ ان کے احمقانہ رویوں اور عورتوں کے بارے میں منافقانہ خیالات کی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں لیکن، یہاں ذکر ہو رہا ہے مستنصر حسین تارڑ جی کا ۔۔۔۔  تو اس میں شک نہیں کی بعض ملکوں اور شہروں میں وہ بھی ماہ لقاؤں، حسیناؤںاور نازنینوں کے درمیان گھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ لیکں اس سلسلے میں وہ مجھے صرف ایک مسافر ہی دکھائی دیتے ہیں ۔ وہ اپنے سفر کے دوران کسی عورت پرنہ  عاشق ہوئے ہیں اور نہ ہی انہوں نے کسی عورت کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ ان کی آبرو سے کھیلے ۔۔۔۔۔ میں شاید ذرا سخت لفظ استعمال کر گیا ہوں لیکن یہ حقیقت مستنصر حسین تارڑ پرپوری اترتی ہے کہ وہ اپنے ہر سفر سے پاکدامنی اور صاف دلی کے ساتھ واپس لوٹے ۔
 
مستنصر حسین تارڑ جس طرح ملکوں ، جگہوں اور ان کی جغرافیائی و تمدنی اقدار کو سامنے لاتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح وہ مختلف تہذیبوں کے درمیاں '' رابطے کا پل'' بنا رہے ہیں اور '' بے خبری '' کی دیواریں مسمار کرتے ہوئے  اپنے قارئین میں ''آگہی کا نور '' پھیلا رہے ہیں ۔ اور یہی کا م کر کے انہوں نے خود اپنے ملک پاکستان کے مخلتف علاقوں کی قومیتوں کو ایک لڑی میں پروکر ایسی تسبیح بنا دی ہے جس کے ہر ایک دانے سے پاکستانیت چمک رہی ہے ۔  سفر نامہ نگار کی حیثیت میں مستنصر حسین پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا ایک مسلح سپاہی بھی ہے ۔ اس کا اسلحہ اس کا قلم ہے ۔
 
کہنے کو بہت کچھ ہے، میں ان کے ناولوں اور ڈراموں کے حوالے سے  بھی کچھ کہنا چاہتا تھاکیونکہ ہمارے اس وطن ثانی ڈنمارک میں ایسی محفل یاراں کبھی کبھی مقدر سے نصیب ہوتی ہے لیکن وقت کی نزاکت کے پیش نظر یہ قرض رہا ۔ ابھی تو مستنصر کچھ دن اور یہاں رہیں گے اور ان کے اعزاز میں یقیناً اور بھی محفلیں منعقد ہونگی لیکن ایک بات جومجھے ابھی کہہ دینی چاہیئے وہ یہ ہے کہ پاکستان کے دو تین قلمکاروں نے اپنے  سفر ناموں میں ڈنمارک کے حوالے سے کچھ بڑی بیہودہ داستانیں لکھی ہیں اور کمال چالاکی سے اپنی دروغ گوئی کے لا متناہی سلسلے کو ٫  بر گردن راوی ٫ ڈال کر اپنا دامن صاف رکھنے کی کوشش کی ہے ۔  مستنصر حسین سے  میری اتنی سی التجا ہے کہ وہ تیس پنتیس سال پہلے کی طرح ڈنمارک کا مشاہدہ خود اپنی آنکھوں سے کریں اور اس فرق کو محسوس کریں جو وقت نے پیدا کر دیا ہے۔
 
مستنصر حسین آپ بخوبی بلکہ مجھ سے بھی زیادہ جانتے ہیں کہ آپ اس مصنف کے ملک میں آئے ہیں جسے دنیا ہانس کرسچن نڈرسن کے نام سے جانتی ہے اورجو  دنیا بھر میں اپنی طلسماتی کہانیوں کی وجہ سے ہر عمر کے لوگوں اور خاص کی بچوں کے دلوں میں بستا ہے ۔ ہانس کرسچن نڈرسن اٹھارویںصدی میں جب اپنے قسطنطنیہ یعنی ترکی کے سفر سے واپس لوٹا تو اس نے اپنے قارین کو '' اڑن کٹھولا ''  نامی ایک ایسی کہانی دی جو آج بھی دنیا بھر میں مشہور ہے اور پھر اُس کی ایک اور کہانی جو  دنیا بھر میں ایک ضرب المثال بن چکی ہے اس کا خام مال بھی ہانس کرسچن آنڈرسن ہسپانیہ سے اپنے ساتھ لایا تھا۔ میری مراد ہانس کرسچن نڈرسن کی کہانی '' بادشاہ  ننگا ہے ''  سے ہے ۔  امید ہے آپ میں نے بھی یہ کہانی  پڑھ نہیںتو سن ضرور رکھی ہوگی کہ کس طرح ایک چھوٹا سا بچہ، بادشاہ کو بھرے بازار میں باور کراتا ہے کہ جلالت مب آپ توالف ننگے ہیں ۔ محترم مستنصرحسین تارڈ صاحب میری دعا ہے کہ آپ بھی یہاں اپنے ایسی خوشگوار یادیں لے کر جائیں کہ اگرآپ انہیں تحریر کریں تو وہ ہمارئے ، اردو ادب میں شہکار تحریروں میں شمار ہوں ۔
 
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔
)     
کوپن ہیگن میں مستنصر حسین تارڑ  کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب میں پڑھا گیا نصر ملک کا مضمون(
 

 

homepage.jpg